تپا ون

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تپسیا کرنے کا عمل۔  تپا ون تپاؤ جلاؤ بخور مگر ماھو کائن سیکون      ( ١٩٦٩ء، مزمور میر مغنی، ٢٢٣ ) ٢ - قربانی، نذر، بھنٹ۔ "ہین کے چوتھے حصے کی مقدار میں تپاون کے لیے مے بھی دینا۔"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٨٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٥١ء میں "کتاب مقدس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - قربانی، نذر، بھنٹ۔ "ہین کے چوتھے حصے کی مقدار میں تپاون کے لیے مے بھی دینا۔"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٨٢ )

جنس: مؤنث